5 اشعار

کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہے

Kabhi kabhi main yeh sochta hoon ke mujh ko teri talash kyun hai

کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہے

«کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہےکہ جب ہیں سارے ہی تار ٹوٹے تو ساز میں ارتعاش کیوں ہے

کوئی اگر پوچھتا یہ ہم سے بتاتے ہم گر تو کیا بتاتےبھلا ہو سب کا کہ یہ نہ پوچھا کہ دل پہ ایسی خراش کیوں ہے

اٹھا کے ہاتھوں سے تم نے چھوڑا چلو نہ دانستہ تم نے توڑااب الٹا ہم سے تو یہ نہ پوچھو کہ شیشہ یہ پاش پاش کیوں ہے

عجب دو راہے پہ زندگی ہے کبھی ہوس دل کو کھینچتی ہےکبھی یہ شرمندگی ہے دل میں کہ اتنی فکر معاش کیوں ہے

نہ فکر کوئی نہ جستجو ہے نہ خواب کوئی نہ آرزو ہےیہ شخص تو کب کا مر چکا ہے تو بے کفن پھر یہ لاش کیوں ہے

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں