28 اشعار

کائنات

Kaa'inaat

کائنات

«کائنات» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

میں کتنی صدیوں سے تک رہا ہوںیہ کائنات اور اس کی وسعت

تمام حیرت تمام حیرتیہ کیا تماشا یہ کیا سماں ہے

یہ کیا عیاں ہے یہ کیا نہاں ہےاتھاہ ساغر ہے اک خلا کا

نہ جانے کب سے نہ جانے کب تککہاں تلک ہے

ہماری نظروں کی انتہا ہےجسے سمجھتے ہیں ہم فلک ہے

یہ رات کا چھلنی چھلنی سا کالا آسماں ہےکہ جس میں جگنو کی شکل میں

بے شمار سورج پگھل رہے ہیںشہاب ثاقب ہے

یا ہمیشہ کی ٹھنڈی کالی فضاؤں میںجیسے آگ کے تیر چل رہے ہیں

کروڑ ہا نوری برسوں کے فاصلوں میں پھیلییہ کہکشائیں

خلا گھیرے ہیںیا خلاؤں کی قید میں ہے

یہ کون کس کو لیے چلا ہےہر ایک لمحہ

کروڑوں میلوں کی جو مسافت ہےان کو آخر کہاں ہے جانا

اگر ہے ان کا کہیں کوئی آخری ٹھکاناتو وہ کہاں ہے

جہاں کہیں ہےسوال یہ ہے

وہاں سے آگے کوئی زمیں ہےکوئی فلک ہے

اگر نہیں ہےتو یہ نہیں کتنی دور تک ہے

میں کتنی صدیوں سے تک رہا ہوںیہ کائنات اور اس کی وسعت

تمام حیرت تمام حیرتستارے جن کی سفیر کرنیں

کروڑوں برسوں سے راہ میں ہےزمیں سے ملنے کی چاہ میں ہے

کبھی تو آ کے کریں گی یہ میری آنکھیں روشنکبھی تو آئے گی میرے ہاتھوں میں روشنی کا ایک ایسا دامن

کہ جس کو تھامے میں جا کے دیکھوں گا ان خلاؤں کےپھیلے آنگن

کبھی تو مجھ کو یہ کائنات اپنے راز کھل کےسنا ہی دے گی

یہ اپنا آغاز اپنا انجاممجھ کو اک دن بتا ہی دے گی

اگر کوئی واعظ اپنے منبر سےنخوت آمیز لحظے میں یہ کہے

کہ تم تو کبھی سمجھ ہی نہیں سکو گےکہ اس قدر ہے یہ بات گہری

تو کوئی پوچھےجو میں نہ سمجھا

تو کون سمجھائے گااور جس کو کبھی نہ کوئی سمجھ سکے

ایسی بات تو پھر فضول ٹھہری

— جاوید اختر