5 اشعار

کل جہاں دیوار تھی ہے آج اک در دیکھیے

Kal jahan deewar thi hai aaj ik dar dekhiye

کل جہاں دیوار تھی ہے آج اک در دیکھیے

«کل جہاں دیوار تھی ہے آج اک در دیکھیے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

کل جہاں دیوار تھی ہے آج اک در دیکھیےکیا سمائی تھی بھلا دیوانے کے سر دیکھیے

پر سکوں لگتی ہے کتنی جھیل کے پانی پہ بطپیروں کی بے تابیاں پانی کے اندر دیکھیے

چھوڑ کر جس کو گئے تھے آپ کوئی اور تھااب میں کوئی اور ہوں واپس تو آ کر دیکھیے

ذہن انسانی ادھر آفاق کی وسعت ادھرایک منظر ہے یہاں اندر کہ باہر دیکھیے

عقل یہ کہتی دنیا ملتی ہے بازار میںدل مگر یہ کہتا ہے کچھ اور بہتر دیکھیے

— جاوید اختر