5 اشعار

کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہا

Khula hai dar pe tera intezar jata raha

کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہا

«کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہا» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہاخلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہا

کسی کی آنکھ میں مستی تو آج بھی ہے وہیمگر کبھی جو ہمیں تھا خمار جاتا رہا

کبھی جو سینے میں اک آگ تھی وہ سرد ہوئیکبھی نگاہ میں جو تھا شرار جاتا رہا

عجب سا چین تھا ہم کو کہ جب تھے ہم بے چینقرار آیا تو جیسے قرار جاتا رہا

کبھی تو میری بھی سنوائی ہوگی محفل میںمیں یہ امید لیے بار بار جاتا رہا

— جاوید اختر