8 اشعار

کن لفظوں میں اتنی کڑوی اتنی کسیلی بات لکھوں

Kin lafzon mein itni kadwi itni kaseeli baat likhun

کن لفظوں میں اتنی کڑوی اتنی کسیلی بات لکھوں

«کن لفظوں میں اتنی کڑوی اتنی کسیلی بات لکھوں» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

کن لفظوں میں اتنی کڑوی اتنی کسیلی بات لکھوںشعر کی میں تہذیب بنا ہوں یا اپنے حالات لکھوں

غم نہیں لکھوں کیا میں غم کو جشن لکھوں کیا ماتم کوجو دیکھے ہیں میں نے جنازے کیا ان کو بارات لکھوں

کیسے لکھوں میں چاند کے قصے کیسے لکھوں میں پھول کی باتریت اڑائے گرم ہوا تو کیسے میں برسات لکھوں

کس کس کی آنکھوں میں دیکھے میں نے زہر بجھے خنجرخود سے بھی جو میں نے چھپائے کیسے وہ صدمات لکھوں

تخت کی خواہش لوٹ کی لالچ کمزوروں پر ظلم کا شوقلیکن ان کا فرمانا ہے میں ان کو جذبات لکھوں

قاتل بھی مقتول بھی دونوں نام خدا کا لیتے تھےکوئی خدا ہے تو وہ کہاں تھا میری کیا اوقات لکھوں

اپنی اپنی تاریکی کو لوگ اجالا کہتے ہیںتاریکی کے نام لکھوں تو قومیں فرقے ذات لکھوں

جانے یہ کیسا دور ہے جس میں جرأت بھی تو مشکل ہےدن ہو اگر تو اس کو لکھوں دن رات اگر ہو رات لکھوں

— جاوید اختر