5 اشعار

میں کب سے کتنا ہوں تنہا تجھے پتا بھی نہیں

Main kab se kitna hoon tanha tujhe pata bhi nahin

میں کب سے کتنا ہوں تنہا تجھے پتا بھی نہیں

«میں کب سے کتنا ہوں تنہا تجھے پتا بھی نہیں» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

میں کب سے کتنا ہوں تنہا تجھے پتا بھی نہیںترا تو کوئی خدا ہے مرا خدا بھی نہیں

کبھی یہ لگتا ہے اب ختم ہو گیا سب کچھکبھی یہ لگتا ہے اب تک تو کچھ ہوا بھی نہیں

کبھی تو بات کی اس نے کبھی رہا خاموشکبھی تو ہنس کے ملا اور کبھی ملا بھی نہیں

کبھی جو تلخ کلامی تھی وہ بھی ختم ہوئیکبھی گلہ تھا ہمیں ان سے اب گلہ بھی نہیں

وہ چیخ ابھری بڑی دیر گونجی ڈوب گئیہر ایک سنتا تھا لیکن کوئی ہلا بھی نہیں

— جاوید اختر