5 اشعار

میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہے

Main khud bhi sochta hoon yeh kya mera haal hai

میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہے

«میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہےجس کا جواب چاہئے وہ کیا سوال ہے

گھر سے چلا تو دل کے سوا پاس کچھ نہ تھاکیا مجھ سے کھو گیا ہے مجھے کیا ملال ہے

آسودگی سے دل کے سبھی داغ دھل گئےلیکن وہ کیسے جائے جو شیشے میں بال ہے

بے دست و پا ہوں آج تو الزام کس کو دوںکل میں نے ہی بنا تھا یہ میرا ہی جال ہے

پھر کوئی خواب دیکھوں کوئی آرزو کروںاب اے دل تباہ ترا کیا خیال ہے

— جاوید اختر