5 اشعار

میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا

Main paa saka na kabhi us khalish se chhuttkara

میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا

«میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکاراوہ مجھ سے جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہارا

برس کے کھل گئے آنسو نتھر گئی ہے فضاچمک رہا ہے سر شام درد کا تارا

کسی کی آنکھ سے ٹپکا تھا اک امانت ہےمری ہتھیلی پہ رکھا ہوا یہ انگارا

جو پر سمیٹے تو اک شاخ بھی نہیں پائیکھلے تھے پر تو مرا آسمان تھا سارا

وہ سانپ چھوڑ دے ڈسنا یہ میں بھی کہتا ہوںمگر نہ چھوڑیں گے لوگ اس کو گر نہ پھنکارا

— جاوید اختر