7 اشعار

مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں

Mujh ko yaqeen hai sach kehti thiin jo bhi Ammi kehti thiin

مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں

«مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیںجب میرے بچپن کے دن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں

ایک یہ دن جب اپنوں نے بھی ہم سے ناطہ توڑ لیاایک وہ دن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں

ایک یہ دن جب ساری سڑکیں روٹھی روٹھی لگتی ہیںایک وہ دن جب آؤ کھیلیں ساری گلیاں کہتی تھیں

ایک یہ دن جب جاگی راتیں دیواروں کو تکتی ہیںایک وہ دن جب شاموں کی بھی پلکیں بوجھل رہتی تھیں

ایک یہ دن جب ذہن میں ساری عیاری کی باتیں ہیںایک وہ دن جب دل میں بھولی بھالی باتیں رہتی تھیں

ایک یہ دن جب لاکھوں غم اور کال پڑا ہے آنسو کاایک وہ دن جب ایک ذرا سی بات پہ ندیاں بہتی تھیں

ایک یہ گھر جس گھر میں میرا ساز و ساماں رہتا ہےایک وہ گھر جس گھر میں میری بوڑھی نانی رہتی تھیں

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں