62 اشعار

وقت

Waqt

وقت

«وقت» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

یہ وقت کیا ہےیہ کیا ہے آخر کہ جو مسلسل گزر رہا ہے

یہ جب نہ گزرا تھاتب کہاں تھا

کہیں تو ہوگاگزر گیا ہے

تو اب کہاں ہےکہیں تو ہوگا

کہاں سے آیا کدھر گیا ہےیہ کب سے کب تک کا سلسلہ ہے

یہ وقت کیا ہےیہ واقعے

حادثےتصادم

ہر ایک غماور ہر اک مسرت

ہر اک اذیتہر ایک لذت

ہر اک تبسمہر ایک آنسو

ہر ایک نغمہہر ایک خوشبو

وہ زخم کا درد ہوکہ وہ لمس کا ہو جادو

خود اپنی آواز ہو کہ ماحول کی صدائیںیہ ذہن میں بنتی اور بگڑتی ہوئی فضائیں

وہ فکر میں آئے زلزلے ہوں کہ دل کی ہلچلتمام احساس

سارے جذبےیہ جیسے پتے ہیں

بہتے پانی کی سطح پرجیسے تیرتے ہیں

ابھی یہاں ہیںابھی وہاں ہیں

اور اب ہیں اوجھلدکھائی دیتا نہیں ہے لیکن

یہ کچھ تو ہےجو کہ بہہ رہا ہے

یہ کیسا دریا ہےکن پہاڑوں سے آ رہا ہے

یہ کس سمندر کو جا رہا ہےیہ وقت کیا ہے

کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوںکہ چلتی گاڑی سے پیڑ دیکھو

تو ایسا لگتا ہےدوسری سمت جا رہے ہیں

مگر حقیقت میںپیڑ اپنی جگہ کھڑے ہیں

تو کیا یہ ممکن ہےساری صدیاں

قطار اندر قطار اپنی جگہ کھڑی ہوںیہ وقت ساکت ہو

اور ہم ہی گزر رہے ہوںاس ایک لمحے میں

سارے لمحےتمام صدیاں چھپی ہوئی ہوں

نہ کوئی آئندہنہ گزشتہ

جو ہو چکا ہےجو ہو رہا ہے

جو ہونے والا ہےہو رہا ہے

میں سوچتا ہوںکہ کیا یہ ممکن ہے

سچ یہ ہوکہ سفر میں ہم ہیں

گزرتے ہم ہیںجسے سمجھتے ہیں ہم

گزرتا ہےوہ تھما ہے

گزرتا ہے یا تھما ہوا ہےاکائی ہے یا بٹا ہوا ہے

ہے منجمدیا پگھل رہا ہے

کسے خبر ہےکسے پتا ہے

یہ وقت کیا ہےیہ کائنات عظیم

لگتا ہےاپنی عظمت سے

آج بھی مطمئن نہیں ہےکہ لمحہ لمحہ

وسیع تر اور وسیع تر ہوتی جا رہی ہےیہ اپنی بانہیں پسارتی ہے

یہ کہکشاؤں کی انگلیوں سےنئے خلاؤں کو چھو رہی ہے

اگر یہ سچ ہےتو ہر تصور کی حد سے باہر

مگر کہیں پریقیناً ایسا کوئی خلا ہے

کہ جس کوان کہکشاؤں کی انگلیوں نے

اب تک چھوا نہیں ہےخلا

جہاں کچھ ہوا نہیں ہےخلا

کہ جس نے کسی سے بھی ''کن'' سنا نہیں ہےجہاں ابھی تک خدا نہیں ہے

وہاںکوئی وقت بھی نہ ہوگا

یہ کائنات عظیماک دن

چھوئے گیاس ان چھوئے خلا کو

اور اپنے سارے وجود سےجب پکارے گی

''کن''تو وقت کو بھی جنم ملے گا

اگر جنم ہے تو موت بھی ہےمیں سوچتا ہوں

یہ سچ نہیں ہےکہ وقت کی کوئی ابتدا ہے نہ انتہا ہے

یہ ڈور لمبی بہت ہےلیکن

کہیں تو اس ڈور کا سرا ہےابھی یہ انساں الجھ رہا ہے

کہ وقت کے اس قفس میںپیدا ہوا

یہیں وہ پلا بڑھا ہےمگر اسے علم ہو گیا ہے

کہ وقت کے اس قفس سے باہر بھی اک فضا ہےتو سوچتا ہے

وہ پوچھتا ہےیہ وقت کیا ہے

— جاوید اختر