6 اشعار

زندگی کی آندھی میں ذہن کا شجر تنہا

Zindagi ki aandhi mein zehen ka shajar tanha

زندگی کی آندھی میں ذہن کا شجر تنہا

«زندگی کی آندھی میں ذہن کا شجر تنہا» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

زندگی کی آندھی میں ذہن کا شجر تنہاتم سے کچھ سہارا تھا آج ہوں مگر تنہا

زخم خوردہ لمحوں کو مصلحت سنبھالے ہےان گنت مریضوں میں ایک چارہ گر تنہا

بوند جب تھی بادل میں زندگی تھی ہلچل میںقید اب صدف میں ہے بن کے ہے گہر تنہا

تم فضول باتوں کا دل پہ بوجھ مت لیناہم تو خیر کر لیں گے زندگی بسر تنہا

اک کھلونا جوگی سے کھو گیا تھا بچپن میںڈھونڈتا پھرا اس کو وو نگر نگر تنہا

جھٹپٹے کا عالم ہے جانے کون آدم ہےاک لحد پہ روتا ہے منہ کو ڈھانپ کر تنہا

— جاوید اختر