5 اشعار

یاد اسے بھی ایک ادھورا افسانہ تو ہوگا

Yaad use bhi ek adhoora afsana to hoga

یاد اسے بھی ایک ادھورا افسانہ تو ہوگا

«یاد اسے بھی ایک ادھورا افسانہ تو ہوگا» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

یاد اسے بھی ایک ادھورا افسانہ تو ہوگاکل رستے میں اس نے ہم کو پہچانا تو ہوگا

ڈر ہم کو بھی لگتا ہے رستے کے سناٹے سےلیکن ایک سفر پر اے دل اب جانا تو ہوگا

کچھ باتوں کے مطلب ہیں اور کچھ مطلب کی باتیںجو یہ فرق سمجھ لے گا وہ دیوانہ تو ہوگا

دل کی باتیں نہیں ہے تو دلچسپ ہی کچھ باتیں ہوںزندہ رہنا ہے تو دل کو بہلانا تو ہوگا

جیت کے بھی وہ شرمندہ ہے ہار کے بھی ہم نازاںکم سے کم وہ دل ہی دل میں یہ مانا تو ہوگا

— جاوید اختر