6 اشعار

یقین کا اگر کوئی بھی سلسلہ نہیں رہا

Yaqeen ka agar koi bhi silsila nahin raha

یقین کا اگر کوئی بھی سلسلہ نہیں رہا

«یقین کا اگر کوئی بھی سلسلہ نہیں رہا» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

یقین کا اگر کوئی بھی سلسلہ نہیں رہاتو شکر کیجیے کہ اب کوئی گلا نہیں رہا

نہ ہجر ہے نہ وصل ہے اب اس کو کوئی کیا کہےکہ پھول شاخ پر تو ہے مگر کھلا نہیں رہا

خزانہ تم نہ پائے تو غریب جیسے ہو گئےپلک پہ اب کوئی بھی موتی جھلملا نہیں رہا

بدل گئی ہے زندگی بدل گئے ہیں لوگ بھیخلوص کا جو تھا کبھی وہ اب صلا نہیں رہا

جو دشمنی بخیل سے ہوئی تو اتنی خیر ہےکہ زہر اس کے پاس ہے مگر پلا نہیں رہا

لہو میں جذب ہو سکا نہ علم تو یہ حال ہےکوئی سوال ذہن کو جو دے جلا نہیں رہا

— جاوید اختر