9 اشعار

بس اک نگاہ میں قصہ تمام ہوتا ہے

Bas ik nigāh mein qissa tamām hotā hai

بس اک نگاہ میں قصہ تمام ہوتا ہے

«بس اک نگاہ میں قصہ تمام ہوتا ہے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

بس اک نگاہ میں قصہ تمام ہوتا ہےتو کیا یہ واقعی اتنا سا کام ہوتا ہے

کسی کے سرد رویے پہ خامشی کا لحافیہ انتقام بھی کیا انتقام ہوتا ہے

کبھی کبھی کوئی لقمہ کہیں کہیں کوئی کامحلال ہوتے ہوئے بھی حرام ہوتا ہے

فراق یار سے کیا کیا امید تھی لیکنیہ رنج بھی کوئی دو چار گام ہوتا ہے

اسیر اسیر ہی ہوتا ہے قید کوئی بھی ہوکسی بھی شکل میں ہو دام دام ہوتا ہے

شعور جس میں نہ ہو اس میں شاعری کیا ہوجو خوش بدن ہو وہی خوش خرام ہوتا ہے

وہ شخص یوں تو کسی کام کا نہیں لیکنسنا ہے اس کے یہاں انتظام ہوتا ہے

کبھی کبھی بڑی مشکل میں ڈال دیتے ہیںوہ جن کا دل میں بہت احترام ہوتا ہے

کھڑا ہوں کتنے ہی رشتوں کو تھام کر جوادؔاور ایسے میں جو مرا انہدام ہوتا ہے

— جواد شیخ