8 اشعار

ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی

Ek tasveer ke awwal nahin dekhi jaati

ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی

«ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتیدیکھ بھی لوں تو مسلسل نہیں دیکھی جاتی

دیکھی جاتی ہے محبت میں ہر اک جنبش دلصرف سانسوں کی ریہرسل نہیں دیکھی جاتی

اک تو ویسے بڑی تاریک ہے خواہش نگریپھر طویل اتنی کہ پیدل نہیں دیکھی جاتی

ایسا کچھ ہے بھی نہیں جس سے تجھے بہلاؤںیہ اداسی بھی مسلسل نہیں دیکھی جاتی

سامنے اک وہی صورت نہیں رہتی اکثرجو کبھی آنکھ سے اوجھل نہیں دیکھی جاتی

میں نے اک عمر سے بٹوے میں سنبھالی ہوئی ہےوہی تصویر جو اک پل نہیں دیکھی جاتی

اب مرا دھیان کہیں اور چلا جاتا ہےاب کوئی فلم مکمل نہیں دیکھی جاتی

اک مقام ایسا بھی آتا ہے سفر میں جوادؔسامنے ہو بھی تو دلدل نہیں دیکھی جاتی

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں