5 اشعار

یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا

Yeh wahm jaane mere dil se kyun nikal nahin raha

یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا

«یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہاکہ اس کا بھی مری طرح سے جی سنبھل نہیں رہا

کوئی ورق دکھا جو اشک خوں سے تر بہ تر نہ ہوکوئی غزل دکھا جہاں وہ داغ جل نہیں رہا

میں ایک ہجر بے مراد جھیلتا ہوں رات دنجو ایسے صبر کی طرح ہے جس کا پھل نہیں رہا

تو اب مرے تمام رنج مستقل رہیں گے کیا؟تو کیا تمہاری خامشی کا کوئی حل نہیں رہا؟

کڑی مسافتوں نے کس کے پاؤں شل نہیں کیے؟کوئی دکھاؤ جو بچھڑ کے ہاتھ مل نہیں رہا

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں