8 اشعار

ہوتا ہے مٹنے ہی کے لیے ہر لگا ہوا

Hotā hai miṭne hi ke liye har lagā huā

ہوتا ہے مٹنے ہی کے لیے ہر لگا ہوا

«ہوتا ہے مٹنے ہی کے لیے ہر لگا ہوا» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

ہوتا ہے مٹنے ہی کے لیے ہر لگا ہوالیکن وہ ایک داغ نہ لگ کر لگا ہوا

دل بیٹھ بیٹھ جاتا ہے آئینہ دیکھ کرجانے یہ کیسا روگ ہے بھیتر لگا ہوا

ایسے ہی بات بات پہ روتا نہیں ہوں میںاک زخم ہے کہیں مرے اندر لگا ہوا

اندر بچھا ہوا ہے کوئی جال اور ہیدام اور ہے دکان کے باہر لگا ہوا

ڈرتا بھی ہوں کہ ہو ہی نہ جائے کہیں وہ کاماک عمر سے ہوں جس میں برابر لگا ہوا

ہوتا نہیں جوان لڑکپن کے بعد بھیلگتا نہیں غریب کا نمبر لگا ہوا

وہ اتفاق سے مرا محبوب ہے تو کیاجچتا ہے ایک شخص ہی افسر لگا ہوا

جوادؔ زندگی کی طرح تھی کوئی سڑکدونوں طرف قطار میں کیکر لگا ہوا

— جواد شیخ