8 اشعار

عشق نے جب بھی کسی دل پہ حکومت کی ہے

Ishq ne jab bhi kisi dil pe hukumat ki hai

عشق نے جب بھی کسی دل پہ حکومت کی ہے

«عشق نے جب بھی کسی دل پہ حکومت کی ہے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

عشق نے جب بھی کسی دل پہ حکومت کی ہےتو اسے درد کی معراج عنایت کی ہے

اپنی تائید پہ خود عقل بھی حیران ہوئیدل نے ایسے مرے خوابوں کی حمایت کی ہے

شہر احساس تری یاد سے روشن کر کےمیں نے ہر گھر میں ترے ذکر کی جرأت کی ہے

مجھ کو لگتا ہے کہ انسان ادھورا ہے ابھیتو نے دنیا میں اسے بھیج کے عجلت کی ہے

شہر کے تیرہ تریں گھر سے وہ خورشید ملاجس کی تنویر میں تاثیر قیامت کی ہے

سوچتا ہوں کہ میں ایسے میں کدھر کو جاؤںتیرا ملنا بھی کٹھن، یاد بھی شدت کی ہے

اس طرح اوندھے پڑے ہیں یہ شکستہ جذبےجیسے اک وہم نے ان سب کی امامت کی ہے

یہ جو بکھری ہوئی لاشیں ہیں ورق پر جوادؔیہ مرے ضبط سے لفظوں نے بغاوت کی ہے

— جواد شیخ