7 اشعار

مرے حواس پہ حاوی رہی کوئی کوئی بات

Mere hawas pe haawi rahi koi koi baat

مرے حواس پہ حاوی رہی کوئی کوئی بات

«مرے حواس پہ حاوی رہی کوئی کوئی بات» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

مرے حواس پہ حاوی رہی کوئی کوئی باتکہ زندگی سے سوا خاص تھی کوئی کوئی بات

یہ اور بات کہ محسوس تک نہ ہونے دوںجکڑ سی لیتی ہے دل کو تری کوئی کوئی بات

کوئی بھی تجھ سا مجھے ہو بہ ہو کہیں نہ ملاکسی کسی میں اگرچہ ملی کوئی کوئی بات

خوشی ہوئی کہ ملاقات رائیگاں نہ گئیاسے بھی میری طرح یاد تھی کوئی کوئی بات

بدن میں زہر کے مانند پھیل جاتی ہےدلوں میں خوف سے سہمی ہوئی کوئی کوئی بات

کبھی سمجھ نہیں پائے کہ اس میں کیا ہے مگرچلی تو ایسے کہ بس چل پڑی کوئی کوئی بات

وضاحتوں میں الجھ کر یہی کھلا جوادؔضروری ہے کہ رہے ان کہی کوئی کوئی بات

— جواد شیخ