9 اشعار

مولا کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو

Maula kisi ko aisa muqaddar na deejiyeo

مولا کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو

«مولا کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

مولا کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیودلبر نہیں تو پھر کوئی دیگر نہ دیجیو

اپنے سوال سہل نہ لگنے لگیں اسےآتے بھی ہوں جواب تو فر فر نہ دیجیو

چادر وہ دیجیو اسے جس پر شکن نہ آئےجس پر شکن نہ آئے وہ بستر نہ دیجیو

آئے نہ کار شکر گزاری پہ کوئی حرفجب دیجیو تو ظرف سے بڑھ کر نہ دیجیو

بکھراؤ کچھ نہیں بھی سمٹتے مرے عزیزاپنے کسی خیال کو پیکر نہ دیجیو

تفریق رہنے دیجیو تعریف و طنز میںاب کے شراب زہر ملا کر نہ دیجیو

یا دل سے ترک کیجیو دستار کا خیالیا اس معاملے میں کبھی سر نہ دیجیو

کہیو کہ تو نے خوب بنائی ہے کائناتلیکن اسے لکھائی کے نمبر نہ دیجیو

معیار سے سوا یہاں رفتار چاہیےجوادؔ اس کو آخری اوور نہ دیجیو

— جواد شیخ