9 اشعار

ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں

Idhar yeh haal ke chhune ka ikhtiyar nahin

ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں

«ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیںادھر وہ حسن کہ آنکھوں پہ اعتبار نہیں

میں اب کسی کی بھی امید توڑ سکتا ہوںمجھے کسی پہ بھی اب کوئی اعتبار نہیں

تم اپنی حالت غربت کا غم مناتے ہوخدا کا شکر کرو مجھ سے بے دیار نہیں

میں سوچتا ہوں کہ وہ بھی دکھی نہ ہو جائےیہ داستان کوئی ایسی خوش گوار نہیں

تو کیا یقین دلانے سے مان جاؤ گے؟یقیں دلاؤں کہ یہ ہجر دل پہ بار نہیں

قدم قدم پہ نئی ٹھوکریں ہیں راہوں میںدیار عشق میں کوئی بھی کامگار نہیں

یہی سکون مری بے کلی نہ بن جائےکہ زندگی میں کوئی وجہ انتظار نہیں

خدا کے بارے میں اک دن ضرور سوچیں گےابھی تو خود سے تعلق بھی استوار نہیں

گلہ تو مجھ سے وہ کرتا ہے اس طرح جوادؔکہ جیسے میں تو جدائی میں سوگوار نہیں

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں