6 اشعار

تو کیا اک ہمارے لیے ہی محبت نیا تجربہ ہے

To kya ek hamare liye hi mohabbat naya tajruba hai

تو کیا اک ہمارے لیے ہی محبت نیا تجربہ ہے

«تو کیا اک ہمارے لیے ہی محبت نیا تجربہ ہے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

تو کیا اک ہمارے لیے ہی محبت نیا تجربہ ہےجسے پوچھیے وہ کہے گا کہ جی ہاں بڑا تجربہ ہے

سمجھ میں نہ آئے تو میری خموشی کو دل پر نہ لیناکہ یہ عقل والوں کی دانست سے ماورا تجربہ ہے

کٹھن تو بہت ہے مگر دل کے رشتوں کو آزاد چھوڑوتوقع نہ باندھو کہ یہ اک اذیت بھرا تجربہ ہے

مگر ہم مصر تھے کہ ہم نے کتابیں بہت پڑھ رکھی ہیںبڑوں نے کہا بھی کہ دیکھو میاں تجربہ تجربہ ہے

وہ اپنی جگہ خوش گماں تھی کہ دائم ہے پہلی محبتمیں اپنے تئیں مطمئن تھا کہ یہ دوسرا تجربہ ہے

کسی اور کے تجربے سے کوئی فائدہ کیا اٹھائیںمحبت میں ہر تجربہ ہی الگ طرح کا تجربہ ہے

— جواد شیخ