10 اشعار

مرا خزانہ زمانے کے ہاتھ جا نہ لگے

Mera khazana zamane ke haath ja na lage

مرا خزانہ زمانے کے ہاتھ جا نہ لگے

«مرا خزانہ زمانے کے ہاتھ جا نہ لگے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

مرا خزانہ زمانے کے ہاتھ جا نہ لگےتجھے کسی کی کسی کو تری ہوا نہ لگے

میں ایک جسم کو چکھنا تو چاہتا ہوں مگرکچھ اس طرح کہ مرے منہ کو ذائقہ نہ لگے

ہمیں لگا سو لگا خود اذیتی کا نشہدعا کرو کہ تمہیں کوئی بد دعا نہ لگے

دعا کرو کہ کسی کا نہ دل لگے تم سےلگے تو اور کسی سے لگا ہوا نہ لگے

حسد کیا ہو ترے رزق سے کبھی میں نےتو مجھ کو اپنی کمائی ہوئی غذا نہ لگے

ہمیں ہی عشق کی تشہیر چاہیے ورنہپتہ نہ لگنے دیا جائے تو پتہ نہ لگے

پڑا رہا میں کسی اور ہی بکھیڑے میںبہت سے قیمتی جذبے کسی دشا نہ لگے

بنا رہا ہوں تصور میں ایک مدت سےاک ایسا شہر جسے کوئی راستہ نہ لگے

ہمیں ہی عشق کی تشہیر چاہیے ورنہپتہ نہ لگنے دیا جائے تو پتہ نہ لگے

کسے خوشی نہیں ہوتی سراہے جانے کیمگر وہ دوست ہی کیا ہے جو آئنہ نہ لگے

— جواد شیخ