10 اشعار

نہ سہی عیش، گزارا ہی سہی

Na sahi aish, guzara hi sahi

نہ سہی عیش، گزارا ہی سہی

«نہ سہی عیش، گزارا ہی سہی» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

نہ سہی عیش، گزارا ہی سہییعنی گر تو نہیں دنیا ہی سہی

چھوڑیئے کچھ تو مرا بھی مجھ میںخون کا آخری قطرہ ہی سہی

غور تو کیجے مری باتوں پرعمر میں آپ سے چھوٹا ہی سہی

رنج ہم نے بھی جدا پائے ہیںآپ یکتا ہیں تو یکتا ہی سہی

میں برا ہوں تو ہوں اب کیا کیجےکوئی اچھا ہے تو اچھا ہی سہی

کس کو سینے سے لگاؤں ترے بعدجاتے جاتے کوئی دھوکہ ہی سہی

کر کچھ ایسا کہ تجھے یاد رکھوںبھول جانے کا تقاضا ہی سہی

تم پہ کب روک تھی چلتے جاتےمیری سوچوں پہ تو پہرہ ہی سہی

وہ کسی طور نہ ہوگا میراچلو ایسا ہے تو ایسا ہی سہی

سرخ کرنے لگی ہر شے جوادؔیاد کا رنگ سنہرا ہی سہی

— جواد شیخ