8 اشعار

نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا

Nahin aisa bhi ke yak-sar nahin rehne wala

نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا

«نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والادل میں یہ شور برابر نہیں رہنے والا

جس طرح خامشی لفظوں میں ڈھلی جاتی ہےاس میں تاثیر کا عنصر نہیں رہنے والا

اب یہ کس شکل میں ظاہر ہو، خدا ہی جانےرنج ایسا ہے کہ اندر نہیں رہنے والا

میں اسے چھوڑنا چاہوں بھی تو کیسے چھوڑوں؟وہ کسی اور کا ہو کر نہیں رہنے والا

غور سے دیکھ ان آنکھوں میں نظر آتا ہےوہ سمندر جو سمندر نہیں رہنے والا

جرم وہ کرنے کا سوچا ہے کہ بس اب کی بارکوئی الزام مرے سر نہیں رہنے والا

میں نے حالانکہ بہت وقت گزارا ہے یہاںاب میں اس شہر میں پل بھر نہیں رہنے والا

مصلحت لفظ پہ دو حرف نہ بھیجوں؟ جوادؔجب مرے ساتھ مقدر نہیں رہنے والا

— جواد شیخ