10 اشعار

کرے گا کیا کوئی میرے گلے سڑے آنسو

Karega kya koi mere gale sade aansu

کرے گا کیا کوئی میرے گلے سڑے آنسو

«کرے گا کیا کوئی میرے گلے سڑے آنسو» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

کرے گا کیا کوئی میرے گلے سڑے آنسوتو کیوں نہ سوکھ ہی جائیں پڑے پڑے آنسو

جو یاد آئیں تو دل غم سے پھٹنے لگتا ہےکسی عزیز کی پلکوں میں وہ جڑے آنسو

ہوا میں اپنی تہی دامنی سے شرمندہکسی کی آنکھوں میں تھے یہ بڑے بڑے آنسو

خزاں میں پتے بھی ایسے کہاں جھڑے ہوں گےہماری آنکھوں سے جوں ہجر میں جھڑے آنسو

میں اس خیال سے جاتے ہوئے اسے نہ ملاکہ روک لیں نہ کہیں سامنے کھڑے آنسو

کسی نے ایک طرف مر کے بھی گلہ نہ کیاکسی نے دیکھتے ہی دیکھتے گھڑے آنسو

مہارت ایسی کہ بس دیکھتے ہی رہ جاؤنکالتا ہے کوئی یوں کھڑے کھڑے آنسو

تمہیں کہا نا کہ بس ہو گئے جدا ہم لوگاکھاڑتے ہو میاں کس لیے گڑے آنسو

مگر جو ضبط نے طوفاں کھڑے کیے اب کے!!تمام عمر بہایا کیے بڑے آنسو

عجب گداز طبیعت ہے آپ کی جوادؔذرا سی بات ہوئی اور چھلک پڑے آنسو

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں