8 اشعار

غم جہاں سے میں اکتا گیا تو کیا ہوگا

Gham jahaan se main uktaa gaya to kya hoga

غم جہاں سے میں اکتا گیا تو کیا ہوگا

«غم جہاں سے میں اکتا گیا تو کیا ہوگا» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

غم جہاں سے میں اکتا گیا تو کیا ہوگاخود اپنی فکر میں گھلنے لگا تو کیا ہوگا

یہ ناگزیر ہے امید کی نمو کے لیےگزرتا وقت کہیں تھم گیا تو کیا ہوگا

یہی بہت ہے کہ ہم کو سکوں سے جینے دےکسی کے ہاتھوں ہمارا بھلا تو کیا ہوگا

یہ لوگ میری خموشی پہ مجھ سے نالاں ہیںکوئی یہ پوچھے میں گویا ہوا تو کیا ہوگا

میں اس لیے بھی بہت مختلف ہوں لوگوں سےوہ سوچتے ہیں کہ ایسا ہوا تو کیا ہوگا

جنوں کی راہ عجب ہے کہ پاؤں دھرنے کوزمین تک بھی نہیں نقش پا تو کیا ہوگا

یہ ایک خوف بھی میری خوشی میں شامل ہےترا بھی دھیان اگر ہٹ گیا تو کیا ہوگا

جو ہو رہا ہے وہ ہوتا چلا گیا تو پھر؟جو ہونے کو ہے وہی ہو گیا تو کیا ہوگا

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں