9 اشعار

تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں

To kya yeh aakhri khwahish hai achha bhool jaaun

تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں

«تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤںجہاں بھی جو بھی ہے تیرے علاوہ بھول جاؤں

تو کیا یہ دوسرا ہی عشق اصلی عشق سمجھوںتو پہلا تجربے کی ذیل میں تھا بھول جاؤں

تو کیا اتنا ہی آساں ہے کسی کو بھول جاناکہ بس باتوں ہی باتوں میں بھلاتا بھول جاؤں

کبھی کہتا ہوں اس کو یاد رکھنا ٹھیک ہوگامگر پھر سوچتا ہوں فائدہ کیا بھول جاؤں

تو کیا یہ دسترس اک روز حاصل ہوگی مجھ کوکہ ہر پل دھیان میں رکھوں اسے یا بھول جاؤں

یہ کوئی قتل تھوڑی ہے کہ بات آئی گئی ہومیں اور اپنا نظر انداز ہونا بھول جاؤں

ہیں اتنی جزئیات اس سانحے کی پوچھیے متمیں کیا کیا یاد رکھوں اور کیا کیا بھول جاؤں

کوئی کب تک کسی کی بے وفائی یاد رکھےبہت ممکن ہے میں بھی رفتہ رفتہ بھول جاؤں

تو کیا یہ کہہ کے خود کو مطمئن کر لو گے جوادکہ وہ ہے بھی اسی لائق لہٰذا بھول جاؤں

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں