عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے
کلام: جواد شیخ
عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیےدنیا کو حال ہی نہیں حلیہ بھی چاہیے
اے دل کسی بھی طرح مجھے دستیاب کرجتنا بھی چاہیے اسے جیسا بھی چاہیے
جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ
مہمان شاعر: جواد شیخ
عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیےدنیا کو حال ہی نہیں حلیہ بھی چاہیے
اے دل کسی بھی طرح مجھے دستیاب کرجتنا بھی چاہیے اسے جیسا بھی چاہیے
تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤںجہاں بھی جو بھی ہے تیرے علاوہ بھول جاؤں
تو کیا یہ دوسرا ہی عشق اصلی عشق سمجھوںتو پہلا تجربے کی ذیل میں تھا بھول جاؤں