9 اشعار

نہیں کہ پند و نصیحت کا قحط پڑ گیا ہے

Nahin ke pand-o-nasihat ka qaht pad gaya hai

نہیں کہ پند و نصیحت کا قحط پڑ گیا ہے

«نہیں کہ پند و نصیحت کا قحط پڑ گیا ہے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

نہیں کہ پند و نصیحت کا قحط پڑ گیا ہےہماری بات میں برکت کا قحط پڑ گیا ہے

تو پھر یہ رد مناجات کی نحوست کیوںکبھی سنا کہ عبادت کا قحط پڑ گیا ہے؟

ملال یہ ہے کہ اس پر کوئی ملول نہیںہمارے شہر میں حیرت کا قحط پڑ گیا ہے

سخن کا کھوکھلا ہونا سمجھ سے باہر تھاکھلا کہ حرف کی حرمت کا قحط پڑ گیا ہے

کہیں کہیں نظر آئے تو آئے مصرعۂ ترنہیں تو شعر میں لذت کا قحط پڑ گیا ہے

نصیب دل کو بھلا کب رہی فراوانیاور اب تو ویسے بھی مدت کا قحط پڑ گیا ہے

مگر اب ایسی بھی کوئی اندھیر نگری نہیںیہ ٹھیک ہے کہ محبت کا قحط پڑ گیا ہے

نہیں میں صرف بظاہر نہیں ہوا ویراندرون ذات بھی شدت کا قحط پڑ گیا ہے

کہاں گئیں مرے گاؤں کی رونقیں جوادؔتو کیا یہاں بھی روایت کا قحط پڑ گیا ہے

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں