غزل 5 اشعار

آزادہ منش رہ دنیا میں پروائے امید و بیم نہ کر

Aazaada-manish reh duniya mein parwa-e umeed-o beem na kar

آزادہ منش رہ دنیا میں پروائے امید و بیم نہ کرجب تک نہ ملیں فطرت کے قدم خم دیکھ سر تسلیم نہ کر

سینے میں ہے اس کے سوز اگر شیطاں کے قدم لے آنکھوں پربیگانۂ درد دل ہے اگر جبریل کی بھی تعظیم نہ کر

کتنی ہی شعاعیں ابر میں ہوں خورشید جنوں پر ایماں لاکتنے ہی دلائل روشن ہوں دانش کو کبھی تسلیم نہ کر

سانچوں میں برابر ڈھلتا جا رفتار جہاں سے پھیر نہ منہتنسیخ تو کیا اس دفتر میں جینا ہے تو کچھ ترمیم نہ کر

اے جوشؔ ہجوم کلفت میں فریاد و فغاں سے کام نہ لےگھٹ جائے گا اس سے دل کا اثر اجزائے تپش تقسیم نہ کر

— جوش ملیح آبادی