غزل 26 اشعار

کوئی دارائے جاں ہے کیا معلوم

Koi daara-e jaan hai kya maaloom

کوئی دارائے جاں ہے کیا معلومیا فقط داستاں ہے کیا معلوم

کیا حدود یقیں میں ہے خلاقیا سراسر گماں ہے کیا معلوم

آرزو تھی خدا کو یا حاجتکیوں وجود جہاں ہے کیا معلوم

لہو یا خود میں نقص کا احساسعلت انس و جاں ہے کیا معلوم

اضطراراً کہ بعد فکر دقیقخلعت‌ ایں و آں ہے کیا معلوم

کس لئے کس طرف بہر ساعترخش ہستی دواں ہے کیا معلوم

کس خلائے نظر کے بھرنے کویہ زمیں آسماں ہے کیا معلوم

ہے کہیں آفتاب ذات و صفاتیا شعاع بیاں ہے کیا معلوم

کچھ نہیں ہے بجز فریب یہاںاور سب کچھ وہاں ہے کیا معلوم

کس لئے عقل کے سفینے میںنقل کا بادباں ہے کیا معلوم

چاپلوسی میں کس لئے مشغولخیل کروبیاں ہے کیا معلوم

ملگجاہٹ سی ہے سر گردوںابر ہے یا دھواں ہے کیا معلوم

وہ توانائی ہے کہ شخصیتکون شاہ زماں ہے کیا معلوم

بن کے پیچھے ہے اک خفی ہلچلگرد پا کارواں ہے کیا معلوم

شر ہے کیوں اس قدر لحیم و شحیمخیر کیوں نیم جاں ہے کیا معلوم

شیطنت کیوں ہے رشک ماہ منیرکیوں رسالت کتاں ہے کیا معلوم

کون صید گناہ ہے عمداًکیوں جہنم تپاں ہے کیا معلوم

کیا حوادث بطور مشغلہ ہیںیا سر امتحاں ہے کیا معلوم

اور کیوں امتحاں کے چکر میںعالم و غیب داں ہے کیا معلوم

کون ان فاقہ کش غریبوں کاضامن آب و ناں ہے کیا معلوم

آنکھیں لبریز ہیں سبو خالیکون پیر مغاں ہے کیا معلوم

سکۂ موت شہر ہستی میںکس خطا پر رواں ہے کیا معلوم

نفس امارہ بخشنے والاہم سے کیوں سر گراں ہے کیا معلوم

کیوں ہماری زمین پر ہر آنکربلا کا سماں ہے کیا معلوم

اس بری طرح منہ سے کیوں باہرآدمی کی زباں ہے کیا معلوم

جوشؔ نور خدا پہ کیوں حاویرنگ روئے بتاں ہے کیا معلوم

— جوش ملیح آبادی