غزل 5 اشعار

اپنے میں جو اب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہے

Apne mein jo ab bhoole se kabhi raahat ka taqaaza paata hai

اپنے میں جو اب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہےحالات پہ میرے کر کے نظر دل مجھ سے بہت شرماتا ہے

الجھن میں یکایک ہوتی ہے دم رکتا ہے دل بھر آتا ہےجب کوئی تسلی دیتا ہے کچھ اور بھی جی گھبراتا ہے

آرام سرکنے والا ہے کس شے پہ یہ غرہ ہے تجھ کودنیا یہ بدلنے والی ہے کس چیز پہ تو اتراتا ہے

اعلان سحر کو ہوتا ہے یوں حسن کی شاہنشاہی کاگردوں پہ سنہرا اک پرچم مشرق کی طرف لہراتا ہے

انداز و ادا سے اے دنیا تو لاکھ سنور کر سامنے آیہ جوشؔ فقیر آزاد منش جب دھیان میں تجھ کو لاتا ہے

— جوش ملیح آبادی