نظم 12 اشعار

اب کیا کروں

Ab Kya Karun

چھا گئی برسات کی پہلی گھٹا اب کیا کروںخوف تھا جس کا وہ آ پہنچی بلا اب کیا کروں

ہجر کو بہلا چلی تھی گرم موسم کی سمومناگہاں چلنے لگی ٹھنڈی ہوا اب کیا کروں

آنکھ اٹھی ہی تھی کہ ابر لالہ گوں کی چھاؤں میںدرد سے کہنے لگا کچھ جھٹپٹا اب کیا کروں

اشک ابھی تھمنے نہ پائے تھے کہ بیدردی کے ساتھبوندیوں سے بوستاں بجنے لگا اب کیا کروں

زخم اب بھرنے نہ پائے تھے کہ بادل چرخ پرآ گیا انگڑائیاں لیتا ہوا اب کیا کروں

آ چکی تھی نیند سی غم کو کہ موسم ناگہاںبحر و بر میں کروٹیں لینے لگا اب کیا کروں

چرخ کی بے رنگیوں سے سست تھی رفتار غمیک بیک ہر ذرہ گلشن بن گیا اب کیا کروں

قفل باب شوق تھیں ماحول کی خاموشیاںدفعتاً کافر پپیہا بول اٹھا اب کیا کروں

ہجر کا سینے میں کچھ کم ہو چلا تھا پیچ و تاببال بکھرانے لگی کالی گھٹا اب کیا کروں

آنکھ جھپکانے لگی تھی دل میں یاد لحن یادمور کی آنے لگی بن سے صدا اب کیا کروں

گھٹ چلا تھا غم کی رنگیں بدلیوں کی آڑ سےان کا چہرہ سامنے آنے لگا اب کیا کروں

آ رہی ہیں ابر سے ان کی صدائیں جوشؔ جوشؔاے خدا اب کیا کروں بار خدا اب کیا کروں

— جوش ملیح آبادی