نظم 8 اشعار

تو اگر سیر کو نکلے

Tu Agar Sair Ko Nikle

تو اگر سیر کو نکلے تو اجالا ہو جائےسرمئی شال کا ڈالے ہوئے ماتھے پہ سرا

بال کھولے ہوئے صندل کا لگائے ٹیکایوں جو ہنستی ہوئی تو صبح کو آ جائے ذرا

باغ کشمیر کے پھولوں کو اچنبھا ہو جائےتو اگر سیر کو نکلے تو اجالا ہو جائے

لے کے انگڑائی جو تو گھاٹ پہ بدلے پہلوچلتا پھرتا نظر آ جائے ندی پر جادو

جھک کے منہ اپنا جو گنگا میں ذرا دیکھ لے تونتھرے پانی کا مزا اور بھی میٹھا ہو جائے

تو اگر سیر کو نکلے تو اجالا ہو جائےصبح کے رنگ نے بخشا ہے وہ مکھڑا تجھ کو

شام کی چھاؤں نے سونپا ہے وہ جوڑا تجھ کوکہ کبھی پاس سے دیکھے جو ہمالہ تجھ کو

اس ترے قد کی قسم اور بھی اونچا ہو جائےتو اگر سیر کو نکلے تو اجالا ہو جائے

— جوش ملیح آبادی