نظم 25 اشعار

یہ کون اٹھا ہے شرماتا

Yeh Kaun Utha Hai Sharmata

یہ کون اٹھا ہے شرماتارین کا جاگا نیند کا ماتا

نیند کا ماتا دھوم مچاتاانگڑائی لیتا بل کھاتا

یہ کون اٹھا ہے شرماتارخ پہ سرخی آنکھ میں جادو

بھینی بھینی بر میں خوشبوبانکی چتون سمٹے ابرو

نیچی نظریں بکھرے گیسویہ کون اٹھا ہے شرماتا

نیند کی لہریں گنگا جمنیجلد کے نیچے ہلکی ہلکی

آنچل ڈھلکا مسکی ساریہلکی مہندی دھندلی بندی

یہ کون اٹھا ہے شرماتاڈوبا ہوا رخ تابانی میں

انوار سحر پیشانی میںیا آب گہر طغیانی میں

یا چاند کا مکھڑا پانی میںیہ کون اٹھا ہے شرماتا

رخسار پہ موج رنگینیکچی چاندی سچی چینی

آنکھوں میں نقوش خود بینیمکھڑے پہ سحر کی شیرینی

یہ کون اٹھا ہے شرماتاآنکھ میں غلطاں عشرت گاہیں

نیند کی سانسیں جیسے آہیںبکھری زلفیں عریاں بانہیں

جان سے ماریں جس کو چاہیںیہ کون اٹھا ہے شرماتا

پھیلا پھیلا آنکھ میں کاجلالجھا الجھا زلف کا بادل

نازک گردن پھول سی ہیکلسرخ پپوٹے نیند سے بوجھل

یہ کون اٹھا ہے شرماتاکچھ جاگ رہی کچھ سوتی ہے

ہر موج صبا منہ دھوتی ہےنا شستہ رخ یا موتی ہے

انگڑائی سے جز بز ہوتی ہےیہ کون اٹھا ہے شرماتا

چہرہ پھیکا نیند کے مارےپھیکے پن میں شہد کے دھارے

جو بھی دیکھے جان کو وارےدھرتی ماتا بوجھ سہارے

یہ کون اٹھا ہے شرماتاہلچل میں دل کی بستی ہے

طوفان جنوں میں ہستی ہےآنکھ میں شب کی مستی ہے

اور مستی دل کو ڈستی ہےیہ کون اٹھا ہے شرماتا

— جوش ملیح آبادی