غزل 5 اشعار

عیش کی جانب جو مائل کچھ طبیعت ہو گئی

Aish Ki Jaanib Jo Maail Kuchh Tabiyat Ho Gayi

عیش کی جانب جو مائل کچھ طبیعت ہو گئیدل پہ غصہ آ گیا اپنے سے نفرت ہو گئی

مجھ کو خود اپنی تباہی پر ترس آتا نہیںخوگر غم اس قدر اب تو طبیعت ہو گئی

آئی جب اسٹیج پر دنیا تو دل خوش ہو گیاجب اٹھا انجام کا پردہ تو نفرت ہو گئی

آ گئیں جنبش میں تسلیم و رضا کی قوتیںلب ملے ہی تھے پئے شکوہ کہ آفت ہو گئی

اصطلاح بندگی میں روح ہیں تاروں کی جوشؔچند ذرے جن سے پیشانی کی زینت ہو گئی

— جوش ملیح آبادی