غزل 13 اشعار

فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکر خوباں کیوں نہ ہو

Fikr Hi Thehri To Dil Ko Fikr-e Khooban Kyun Na Ho

فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکر خوباں کیوں نہ ہوخاک ہونا ہے تو خاک کوئے جاناں کیوں نہ ہو

دہر میں اے خواجہ ٹھہری جب اسیری ناگزیردل اسیر حلقۂ گیسوئے پیچاں کیوں نہ ہو

زیست ہے جب مستقل آوارہ گردی ہی کا نامعقل والو پھر طواف کوئے جاناں کیوں نہ ہو

جب نہیں مستوریوں میں بھی گناہوں سے نجاتدل کھلے بندوں غریق بحر عصیاں کیوں نہ ہو

اک نہ اک ہنگامے پر موقوف ہے جب زندگیمے کدے میں رند رقصاں و غزلخواں کیوں نہ ہو

جب خوش و ناخوش کسی کے ہاتھ میں دینا ہے ہاتھہم نشیں پھر بیعت جام زر افشاں کیوں نہ ہو

جب بشر کی دسترس سے دور ہے حبل المتیںدشت وحشت میں پھر اک کافر کا داماں کیوں نہ ہو

ایک ہے جب شور جہل و بانگ حکمت کا مآلدل ہلاک ذوق گلبانگ پریشاں کیوں نہ ہو

اک نہ اک رفعت کے آگے سجدہ لازم ہے تو پھرآدمی محو سجود سرو خوباں کیوں نہ ہو

اک نہ اک پھندے ہی میں پھنسنا ہے جب انسان کودوش پر دام سیاہ سنبلستاں کیوں نہ ہو

جب فریبوں میں ہی رہنا ہے تو اے اہل خردلذت پیمان بار سست پیماں کیوں نہ ہو

یاں جب آویزش ہی ٹھہری ہے تو ذرے چھوڑ کرآدمی خورشید سے دست و گریباں کیوں نہ ہو

اک نہ اک ظلمت سے جب وابستہ رہنا ہے تو جوشؔزندگی پر سایۂ زلف پریشاں کیوں نہ ہو

— جوش ملیح آبادی