غزل 6 اشعار

اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے

Is Qadar Dooba Hua Dil Dard Ki Lazzat Mein Hai

اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہےتیرا عاشق انجمن ہی کیوں نہ ہو خلوت میں ہے

جذب کر لینا تجلی روح کی عادت میں ہےحسن کو محفوظ رکھنا عشق کی فطرت میں ہے

محو ہو جاتا ہوں اکثر میں کہ دشمن ہوں ترادل کشی کس درجہ اے دنیا تری صورت میں ہے

اف نکل جاتی ہے خطرے ہی کا موقعہ کیوں نہ ہوحسن سے بیتاب ہو جانا مری فطرت میں ہے

اس کا اک ادنیٰ کرشمہ روح وہ اتنا عجیبعقل استعجاب میں ہے فلسفہ حیرت میں ہے

نور کا تڑکا ہے دھیمی ہو چلی ہے چاندنیہل رہا ہے دل مرا مصروف وہ زینت میں ہے

— جوش ملیح آبادی