نظم 66 اشعار

رشوت

Rishwat

لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑیئےیہ تجارت ہے خلاف آدمیت چھوڑیئے

اس سے بد تر لت نہیں ہے کوئی یہ لت چھوڑیئےروز اخباروں میں چھپتا ہے کہ رشوت چھوڑیئے

بھول کر بھی جو کوئی لیتا ہے رشوت چور ہےآج قومی پاگلوں میں رات دن یہ شور ہے

کس کو سمجھائیں اسے کھودیں تو پھر پائیں گے کیاہم اگر رشوت نہیں لیں گے تو پھر کھائیں گے کیا

قید بھی کر دیں تو ہم کو راہ پر لائیں گے کیایہ جنون عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا

ملک بھر کو قید کر دے کس کے بس کی بات ہےخیر سے سب ہیں کوئی دو چار دس کی بات ہے

یہ ہوس یہ چور بازاری یہ مہنگائی یہ بھاؤرائی کی قیمت ہو جب پربت تو کیوں نہ آئے تاؤ

اپنی تنخواہوں کے نالے میں ہے پانی آدھ پاؤاور لاکھوں ٹن کی بھاری اپنے جیون کی ہے ناؤ

جب تلک رشوت نہ لیں ہم دال گل سکتی نہیںناؤ تنخواہوں کے پانی میں تو چل سکتی نہیں

رشوتوں کی زندگی ہے چور بازاری کے ساتھچل رہی ہے بے زری احکام زرداری کے ساتھ

پھرتیاں چوہوں کی ہیں بلی کی طراری کے ساتھآپ روکیں خواہ کتنی ہی ستم گاری کے ساتھ

ہم نہیں ہلنے کے سن لیجے کسی بھونچال سےکام یہ چلتا رہے گا آپ کے اقبال سے

یہ ہے مل والا وہ بنیا ہے یہ ساہوکار ہےیہ ہے دوکاں دار وہ ہے وید یہ عطار ہے

وہ اگر ٹھگ ہے تو یہ ڈاکو ہے وہ بٹ مار ہےآج ہر گردن میں کالی جیت کا اک ہار ہے

حیف ملک و قوم کی خدمت گزاری کے لیےرہ گئے ہیں اک ہمیں ایمان داری کے لیے

بھوک کے قانون میں ایمان داری جرم ہےاور بے ایمانیوں پر شرمساری جرم ہے

ڈاکوؤں کے دور میں پرہیزگاری جرم ہےجب حکومت خام ہو تو پختہ کاری جرم ہے

لوگ اٹکاتے ہیں کیوں روڑے ہمارے کام میںجس کو دیکھو خیر سے ننگا ہے وہ حمام میں

توند والوں کی تو ہو آئینہ داری واہ وااور ہم بھوکوں کے سر پر چاند ماری واہ وا

ان کی خاطر صبح ہوتے ہی نہاری واہ وااور ہم چاٹا کریں ایمان داری واہ وا

سیٹھ جی تو خوب موٹر میں ہوا کھاتے پھریںاور ہم سب جوتیاں گلیوں میں چٹخاتے پھریں

خوب حق کے آستاں پر اور جھکے اپنی جبیںجائیے رہنے بھی دیجے ناصح گردوں نشیں

توبہ توبہ ہم بھڑی میں آ کے اور دیکھیں زمیںآنکھ کے اندھے نہیں ہیں گانٹھ کے پورے نہیں

ہم پھٹک سکتے نہیں پرہیزگاری کے قریبعقل مند آتے نہیں ایمان داری کے قریب

اس گرانی میں بھلا کیا غنچۂ ایماں کھلےجو کے دانے سخت ہیں تانبے کے سکے پل پلے

جائیں کپڑے کے لیے تو دام سن کر دل ہلےجب گریباں تا بہ دامن آئے تو کپڑا ملے

جان بھی دے دے تو سستے دام مل سکتا نہیںآدمیت کا کفن ہے دوستوں کپڑا نہیں

صرف اک پتلون سلوانا قیامت ہو گیاوہ سلائی لی میاں درزی نے ننگا کر دیا

آپ کو معلوم بھی ہے چل رہی ہے کیا ہواصرف اک ٹائی کی قیمت گھونٹ دیتی ہے گلا

ہلکی ٹوپی سر پہ رکھتے ہیں تو چکراتا ہے سراور جوتے کی طرف بڑھیے تو جھک جاتا ہے سر

تھی بزرگوں کی جو بنیائن وہ بنیا لے گیاگھر میں جو گاڑھی کمائی تھی وہ گاڑھا لے گیا

جسم کی ایک ایک بوٹی گوشت والا لے گیاتن میں باقی تھی جو چربی گھی کا پیالہ لے گیا

آئی تب رشوت کی چڑیا پنکھ اپنے کھول کرورنہ مر جاتے میاں کتے کی بولی بول کر

پتھروں کو توڑتے ہیں آدمی کے استخواںسنگ باری ہو تو بن جاتی ہے ہمت سائباں

پیٹ میں لیتی ہے لیکن بھوک جب انگڑائیاںاور تو اور اپنے بچے کو چبا جاتی ہے ماں

کیا بتائیں بازیاں ہیں کس قدر ہارے ہوئےرشوتیں پھر کیوں نہ لیں ہم بھوک کے مارے ہوئے

آپ ہیں فضل خدائے پاک سے کرسی نشیںانتظام سلطنت ہے آپ کے زیر نگیں

آسماں ہے آپ کا خادم تو لونڈی ہے زمیںآپ خود رشوت کے ذمے دار ہیں فدوی نہیں

بخشتے ہیں آپ دریا کشتیاں کھیتے ہیں ہمآپ دیتے ہیں مواقع رشوتیں لیتے ہیں ہم

ٹھیک تو کرتے نہیں بنیاد نا ہموار کودے رہے ہیں گالیاں گرتی ہوئی دیوار کو

سچ بتاؤں زیب یہ دیتا نہیں سرکار کوپالئے بیماریوں کو ماریے بیمار کو

علت رشوت کو اس دنیا سے رخصت کیجیےورنہ رشوت کی دھڑلے سے اجازت دیجئے

بد بہت بد شکل ہیں لیکن بدی ہے نازنیںجڑ کو بوسے دے رہے ہیں پیڑ سے چیں بر جبیں

آپ گو پانی الچتے ہیں بہ طرز دل نشیںناؤ کا سوراخ لیکن بند فرماتے نہیں

کوڑھیوں پر آستیں کب سے چڑھائے ہیں حضورکوڑھ کو لیکن کلیجے سے لگائے ہیں حضور

دست کاری کے افق پر ابر بن کر چھائیےجہل کے ٹھنڈے لہو کو علم سے گرمائیے

کارخانے کیجیے قائم مشینیں لائیےان زمینوں کو جو محو خواب ہیں چونکایئے

خواہ کچھ بھی ہو منڈھے یہ بیل چڑھ سکتی نہیںملک میں جب تک کہ پیدا وار بڑھ سکتی نہیں

دل میں جتنا آئے لوٹیں قوم کو شاہ و وزیرکھینچ لے خنجر کوئی جوڑے کوئی چلے میں تیر

بے دھڑک پی کر غریبوں کا لہو اکڑیں امیردیوتا بن کر رہیں تو یہ غلامان حقیر

دوستوں کی گالیاں ہر آن سہنے دیجئےخانہ زادوں کو یونہی شیطان رہنے دیجئے

دام اک چھوٹے سے کوزے کے ہیں سو جام بلورمول لینے جائیں اک قطرہ تو دیں نہر و قصور

اک دیا جو بیچتا ہے مانگتا ہے شمع طوراک ذرا سے سنگ ریزے کی ہے قیمت کوہ نور

جب یہ عالم ہے تو ہم رشوت سے کیا توبہ کریںتوبہ رشوت کیسی ہم چندہ نہ لیں تو کیا کریں

زلف اس کوآپریٹیو سلسلے کی ہے درازچھیڑتے ہیں ہم کبھی تو وہ کبھی رشوت کا ساز

گاہ ہم بنتے ہیں قمری گاہ وہ بنتے ہیں بازآپ کو معلوم کیا آپس کا یہ راز و نیاز

ناؤ ہم اپنی کھواتے بھی ہیں اور کھیتے بھی ہیںرشوتوں کے لینے والے رشوتیں دیتے بھی ہیں

بادشاہی تخت پر ہے آج ہر شے جلوہ گرپھر رہے ہیں ٹھوکریں کھاتے زر و لعل و گہر

خاص چیزیں قیمتیں ان کی تو ہیں افلاک پرآب خورہ منہ پھلاتا ہے اٹھنی دیکھ کر

چودہ آنے سیر کی آواز سن کر آج کللال ہو جاتا ہے غصے سے ٹماٹر آج کل

نسترن میں ناز باقی ہے نہ گل میں رنگ و بواب تو ہے صحن چمن میں خار و خس کی آبرو

خوردنی چیزوں کے چہروں سے ٹپکتا ہے لہوروپئے کا رنگ فق ہے اشرفی ہے زرد رو

حال کے سکے کو ماضی کا جو سکہ دیکھ لےسو روپے کے نوٹ کے منہ پر دو انی تھوک دے

وقت سے پہلے ہی آئی ہے قیامت دیکھیےمنہ کو ڈھانپے رو رہی ہے آدمیت دیکھیے

دور جا کر کس لیے تصویر عبرت دیکھیےاپنے قبلہ جوشؔ صاحب ہی کی حالت دیکھیے

اتنی گمبھیری پہ بھی مر مر کے جیتے ہیں جنابسو جتن کرتے ہیں تو اک گھونٹ پیتے ہیں جناب

— جوش ملیح آبادی