نظم 72 اشعار

اپنی ملکۂ‌ سخن سے

Apni Malika-e-Sukhan Se

اے شمع جوشؔ و مشعل ایوان آرزواے مہر ناز و ماہ شبستان آرزو

اے جان درد مندی و ایمان آرزواے شمع طور و یوسف کنعان آرزو

ذرے کو آفتاب تو کانٹے کو پھول کراے روح شعر سجدۂ شاعر قبول کر

دریا کا موڑ نغمۂ شیریں کا زیر و بمچادر شب نجوم کی شبنم کا رخت نم

تتلی کا ناز‌ رقص غزالہ کا حسن رمموتی کی آب گل کی مہک ماہ نو کا خم

ان سب کے امتزاج سے پیدا ہوئی ہے توکتنے حسیں افق سے ہویدا ہوئی ہے تو

ہوتا ہے مہ وشوں کا وہ عالم ترے حضورجیسے چراغ مردہ سر بزم شمع طور

آ کر تری جناب میں اے کار‌ ساز نورپلکوں میں منہ چھپاتے ہیں جھینپے ہوئے غرور

آتی ہے ایک لہر سی چہروں پر آہ کیآنکھوں میں چھوٹ جاتی ہیں نبضیں نگاہ کی

رفتار ہے کہ چاندنی راتوں میں موج گنگیا بھیرویں کی پچھلے پہر قلب میں امنگ

یہ کاکلوں کی تاب ہے یہ عارضوں کا رنگجس طرح جھٹپٹے میں شب و روز کی ترنگ

روئے مبیں نہ گیسوئے سنبل قوام ہےوہ برہمن کی صبح یہ ساقی کی شام ہے

آواز میں یہ رس یہ لطافت یہ اضطرارجیسے سبک مہین رواں ریشمی پھوار

لہجے میں یہ کھٹک ہے کہ ہے نیشتر کی دھاراور گر رہا ہے دھار سے شبنم کا آبشار

چہکی جو تو چمن میں ہوائیں مہک گئیںگل برگ تر سے اوس کی بوندیں ٹپک گئیں

جادو ہے تیری صوت کا گل پر ہزار پرجیسے نسیم صبح کی رو جوئے بار پر

ناخن کسی نگار کا چاندی کے تار پرمضراب عکس قوس رگ آبشار پر

موجیں صبا کی باغ پہ صہبا چھڑک گئیںجنبش ہوئی لبوں کو تو کلیاں چٹک گئیں

چشم سیاہ میں وہ تلاطم ہے نور کاجیسے شراب ناب میں جوہر سرور کا

یا چہچہوں کے وقت تموج طیور کاباندھے ہوئے نشانہ کوئی جیسے دور کا

ہر موج رنگ قامت گل ریز رم میں ہےگویا شراب تند بلوریں قلم میں ہے

تجھ سے نظر ملائے یہ کس کی بھلا مجالتیرے قدم کا نقش حسینوں کے خد و خال

اللہ رے تیرے حسن ملک سوز کا جلالجب دیکھتی ہیں خلد سے حوریں ترا جمال

پرتو سے تیرے چہرۂ پرویں سرشت کےگھبرا کے بند کرتی ہیں غرفے بہشت کے

چہرے کو رنگ و نور کا طوفاں کئے ہوئےشمع و شراب و شعر کا عنواں کئے ہوئے

ہر نقش پا کو تاج گلستاں کئے ہوئےسو طور اک نگاہ میں پنہاں کئے ہوئے

آتی ہے تو چمن میں جب اس طرز و طور سےگل دیکھتے ہیں باغ میں بلبل کو غور سے

میرے بیاں میں سحر بیانی تجھی سے ہےروئے سخن پہ خون جوانی تجھی سے ہے

لفظوں میں رقص و رنگ و روانی تجھی سے ہےفقر گدا میں فر کیانی تجھی سے ہے

فدوی کے اس عروج پہ کرتی ہے غور کیاتیری ہی جوتیوں کا تصدق ہے اور کیا

اے کردگار معنی و خلاق شعر تراے جان ذوق و محسنۂ لیلئ ہنر

کھل جائے گر یہ بات کہ اردو زبان پرتیری نگاہ ناز کا احساں ہے کس قدر

چاروں طرف سے نعرۂ صل علیٰ اٹھےتیرے مجسموں سے زمیں جگمگا اٹھے

میرے ہنر میں صرف ہوئی ہے تری نظرخیمہ ہے میرے نام کا بالائے بحر و بر

شہرت کی بزم تجھ سے منور نہیں مگرفرق گدا پہ تاج ہے سلطاں برہنہ سر

پروانے کو وہ کون ہے جو مانتا نہیںاور شمع کس طرف ہے کوئی جانتا نہیں

دل تیری بزم ناز میں جب سے ہے باریابہر خار ایک گل ہے تو ہر ذرہ آفتاب

اک لشکر نشاط ہے ہر غم کے ہم رکابزیر نگیں ہے عالم تمکین و اضطراب

باد مراد و چشمک طوفاں لئے ہوئےہوں بوئے زلف و جنبش مژگاں لئے ہوئے

تیرے لبوں سے چشمۂ حیواں مرا کلامتیری لٹوں سے موجۂ طوفاں مرا کلام

تیری نظر سے طور بہ داماں مرا کلامتیرے سخن سے نغمۂ یزداں مرا کلام

تو ہے پیام عالم بالا مرے لئےاک وحئ ذی حیات ہے گویا مرے لئے

اے ماہ شعر پرور و مہر سخن وریاے آب و رنگ حافظؔ و اے حسن انوریؔ

تو نے ہی ثبت کی ہے بصد ناز داوریمیرے سخن کی پشت پہ مہر پیمبری

تیری شمیم زلف کی دولت لئے ہوئےمیرا نفس ہے بوئے‌ رسالت لئے ہوئے

در ہائے‌ آب دار و شرر ہائے دل نشیںشب ہائے تلخ و ترش و سحر ہائے شکریں

عقل نشاط خیز و جنون غم آفریںدولت وہ کون ہے جو مری جیب میں نہیں

ٹکرائی جب بھی مجھ سے خجل سروری ہوئییوں ہے ترے فقیر کی جھولی بھری ہوئی

نغمے پلے ہیں دولت گفتار سے تریپایا ہے نطق چشم سخن بار سے تری

طاقت ہے دل میں نرگس بیمار سے تریکیا کیا ملا ہے جوشؔ کو سرکار سے تری

بانکے خیال ہیں خم گردن لئے ہوئےہر شعر کی کلائی ہے کنگن لئے ہوئے

اے لیلئ نہفتہ و اے حسن شرمگیںتجھ پر نثار دولت دنیا متاع دیں

منسوب مجھ سے ہے جو بہ انداز دل نشیںتیری وہ شاعری ہے مری شاعری نہیں

آوازہ چرخ پر ہے جو اس درد مند کاگویا وہ عکس ہے ترے قد بلند کا

میرے بیاں میں یہ جو وفور سرور ہےطاق‌ سخن وری میں جو یہ شمع طور ہے

یہ جو مرے چراغ کی ضو دور دور ہےسرکار ہی کی موج تبسم کا نور ہے

شعروں میں کروٹیں یہ نہیں سوز و ساز کیلہریں ہیں یہ حضور کی زلف دراز کی

مجھ رند حسن کار کی مے خواریاں نہ پوچھاس خواب جاں فروز کی بیداریاں نہ پوچھ

کرتی ہے کیوں شراب خرد‌ باریاں نہ پوچھبے‌ ہوشیوں میں کیوں ہے یہ ہشیاریاں نہ پوچھ

پیتا ہوں وہ جو زلف کی رنگیں گھٹاؤں میںکھنچتی ہے ان گھنی ہوئی پلکوں کی چھاؤں میں

ہشیار اس لئے ہوں کہ مے خوار ہوں تراصیاد شعر ہوں کہ گرفتار ہوں ترا

لہجہ ملیح ہے کہ نمک خوار ہوں تراصحت زبان میں ہے کہ بیمار ہوں ترا

تیرے کرم سے شعر و ادب کا امام ہوںشاہوں پہ خندہ زن ہوں کہ تیرا غلام ہوں

میں وہ ہوں جس کے غم نے ترے دل میں راہ کیاک عمر جس کے عشق میں خود تو نے آہ کی

سویا ہے شوق سیج پہ تیری نگاہ کیراتیں کٹی ہیں سائے میں چشم سیاہ کی

کیوں کر نہ شاخ گل کی لچک ہو بیان میںتیری کمر کا لوچ ہے میری زبان میں

ترشے ہوئے لبوں کے بہکتے خطاب سےزرتار کاکلوں کے مہکتے سحاب سے

سرشار انکھڑیوں کے دہکتے شباب سےموج نفس کے عطر سے مکھڑے کی آب سے

بارہ برس تپا کے زمانہ سہاگ کاسینچا ہے تو نے باغ مرے دل کی آگ کا

گرمی سے جس کی برف کا دیوتا ڈرے وہ آگشعلوں میں اوس کو جو مبدل کرے وہ آگ

لو سے جو زمہریر کا دامن بھرے وہ آگحد ہے جو نام نار سقر پر دھرے وہ آگ

جس کی لپٹ گلے میں جلاتی ہے راگ کوپالا ہے قلب ناز میں تو نے اس آگ کو

— جوش ملیح آبادی