نظم 8 اشعار

شکست زنداں کا خواب

Shikast-e-Zindan ka Khwab

کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریںاکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں

دیواروں کے نیچے آ آ کر یوں جمع ہوئے ہیں زندانیسینوں میں تلاطم بجلی کا آنکھوں میں جھلکتی شمشیریں

بھوکوں کی نظر میں بجلی ہے توپوں کے دہانے ٹھنڈے ہیںتقدیر کے لب کو جنبش ہے دم توڑ رہی ہیں تدبیریں

آنکھوں میں گدا کی سرخی ہے بے نور ہے چہرہ سلطاں کاتخریب نے پرچم کھولا ہے سجدے میں پڑی ہیں تعمیریں

کیا ان کو خبر تھی زیر و زبر رکھتے تھے جو روح ملت کوابلیں گے زمیں سے مار سیہ برسیں گی فلک سے شمشیریں

کیا ان کو خبر تھی سینوں سے جو خون چرایا کرتے تھےاک روز اسی بے رنگی سے جھلکیں گی ہزاروں تصویریں

کیا ان کو خبر تھی ہونٹوں پر جو قفل لگایا کرتے تھےاک روز اسی خاموشی سے ٹپکیں گی دہکتی تقریریں

سنبھلو کہ وہ زنداں گونج اٹھا جھپٹو کہ وہ قیدی چھوٹ گئےاٹھو کہ وہ بیٹھیں دیواریں دوڑو کہ وہ ٹوٹی زنجیریں

— جوش ملیح آبادی