نظم 27 اشعار

حسن اور مزدوری

Husn aur Mazdoori

ایک دوشیزہ سڑک پر دھوپ میں ہے بے قرارچوڑیاں بجتی ہیں کنکر کوٹنے میں بار بار

چوڑیوں کے ساز میں یہ سوز ہے کیسا بھراآنکھ میں آنسو بنی جاتی ہے جس کی ہر صدا

گرد ہے رخسار پر زلفیں اٹی ہیں خاک میںنازکی بل کھا رہی ہے دیدۂ غم ناک میں

ہو رہا ہے جذب مہر خونچکاں کے روبروکنکروں کی نبض میں اٹھتی جوانی کا لہو

دھوپ میں لہرا رہی ہے کاکل عنبر سرشتہو رہا ہے کمسنی کا لوچ جزو سنگ و خشت

پی رہی ہیں سرخ کرنیں مہر آتش بار کینرگسی آنکھوں کا رس مے چمپئی رخسار کی

غم کے بادل خاطر نازک پہ ہیں چھائے ہوئےعارض رنگیں ہیں یا دو پھول مرجھائے ہوئے

چیتھڑوں میں دیدنی ہے روئے غمگین شبابابر کے آوارہ ٹکڑوں میں ہو جیسے ماہتاب

اف یہ ناداری مرے سینے سے اٹھتا ہے دھواںآہ اے افلاس کے مارے ہوئے ہندوستاں!

حسن ہو مجبور کنکر توڑنے کے واسطےدست نازک اور پتھر توڑنے کے واسطے

فکر سے جھک جائے وہ گردن تف اے لیل و نہارجس میں ہونا چاہیئے پھولوں کا اک ہلکا سا ہار

آسماں جان طرب کو وقف رنجوری کرےصنف نازک بھوک سے تنگ آ کے مزدوری کرے

اس جبیں پر اور پسینہ ہو جھلکنے کے لیےجو جبین ناز ہو افشاں چھڑکنے کے لیے

بھیک میں وہ ہاتھ اٹھیں التجا کے واسطےجن کو قدرت نے بنایا ہو حنا کے واسطے

نازکی سے جو اٹھا سکتی نہ ہو کاجل کا باران سبک پلکوں پہ بیٹھے راہ کا بوجھل غبار

کیوں فلک مجبور ہوں آنسو بہانے کے لیےانکھڑیاں ہوں جو دلوں میں ڈوب جانے کے لیے

مفلسی چھانٹے اسے قہر و غضب کے واسطےجس کا مکھڑا ہو شبستان طرب کے واسطے

فرط خشکی سے وہ لب ترسیں تکلم کے لیےجن کو قدرت نے تراشا ہو تبسم کے لیے

نازنینوں کا یہ عالم مادر ہند آہ آہکس کے جور ناروا نے کر دیا تجھ کو تباہ؟

ہن برستا تھا کبھی دن رات تیری خاک پرسچ بتا اے ہند تجھ کو کھا گئی کس کی نظر

باغ تیرا کیوں جہنم کا نمونہ ہو گیاآہ کیوں تیرا بھرا دربار سونا ہو گیا

سر برہنہ کیوں ہے وہ پھولوں کی چادر کیا ہوئیاے شب تاریک تیری بزم اختر کیا ہوئی

جس کے آگے تھا قمر کا رنگ پھیکا کیا ہوااے عروس نو ترے ماتھے کا ٹیکا کیا ہوا

اے خدا ہندوستاں پر یہ نحوست تا کجا؟آخر اس جنت پہ دوزخ کی حکومت تا کجا؟

گردن حق پر خراش تیغ باطل تا بہ کے؟اہل دل کے واسطے طوق و سلاسل تا بہ کے؟

سر زمین رنگ و بو پر عکس گلخن تا کجا؟پاک سیتا کے لیے زندان راون تا کجا؟

دست نازک کو رسن سے اب چھڑانا چاہیئےاس کلائی میں تو کنگن جگمگانا چاہیئے

— جوش ملیح آبادی