نظم 47 اشعار

نقاد

Naqqad

رحم اے نقاد فن یہ کیا ستم کرتا ہے توکوئی نوک خار سے چھوتا ہے نبض رنگ و بو

شاعری اور منطقی بحثیں یہ کیسا قتل عامبرش مقراض کا دیتا ہے زلفوں کو پیام

کیوں اٹھا ہے جنس شاعر کے پرکھنے کے لیےکیا شمیم سنبل و نسریں ہے چکھنے کے لیے

اے ادب نا آشنا یہ بھی نہیں تجھ کو خیالننگ ہے بزم سخن میں مدرسے کی قیل و قال

منطقی کانٹے پہ رکھتا ہے کلام دل پذیرکاش اس نکتے کو سمجھے تیری طبع حرف گیر

یعنی اک لے سے لب ناقد کو کھلنا چاہیئےپنکھڑی پر قطرۂ شبنم کو تلنا چاہیئے

شعر فہمی کے لیے ہیں جو شرائط بے خبرسوچ تو پورا اترتا بھی ہے اس معیار پر

جلتے دیکھا ہے کبھی ہستی کے دل کا تو نے داغآنچ سے جس کی غذا پاتا ہے شاعر کا دماغ

دل سے اپنے پوچھ او زندانیٔ علم کتابحسن قدرت کو بھی دیکھا ہے برافگندہ نقاب

تو پتا اسرار ہستی کا لگاتا ہے کبھیعالم محسوس سے باہر بھی جاتا ہے کبھی

کیا وہاں بھی اڑ کے پہنچا ہے کبھی اے نکتہ چیںکانپتا ہے جس فضا میں شہپر روح الامیں

خامشی کی نغمہ ریزی پر بھی سر دھنتا ہے توقلب فطرت کے دھڑکنے کی صدا سنتا ہے تو

اب بتوں کی بزم میں تو بھی ہوا ہے باریابخاک کو پرچھائیاں جن کی بناتی ہیں گلاب

جو تبسم چھین لیتے ہیں شب مہتاب سےجن کی برنائی جگاتی ہے دلوں کو خواب سے

سچ بتا تو بھی ہے کیا اے کشتۂ صد حرص و آزراز دان کاکل شب رنگ و چشم نیم باز

تیری نبضوں میں بھی مچلی ہے کبھی بجلی کی روسوز غم سے تیرا دل بھی کیا کبھی دیتا ہے لو

سچ بتا اے عاشق دیرینۂ فکر معاشزہر میں تریاک کے عنصر کی بھی کی ہے تلاش

مجھ سے آنکھیں تو ملا اے دشمن سوز و گدازتجھ پہ کیا اضداد کی توحید کا افشا ہے راز

تیری راتوں کی سیاہی میں بھی اے ظلمت مآبکیا کبھی طالع ہوا ہے مسکرا کر آفتاب

تو گیا بھی ہے نگار غم کی محمل کے قریبآنچ سی محسوس ہوتی ہی کبھی دل کے قریب

طور معنی پر بھی اے نافہم چڑھ سکتا ہے توکیا مصنف کی کتاب دل بھی پڑھ سکتا ہے تو

یہ نہیں تو پھیر لے آنکھیں یہ جلوہ اور ہےتیری دنیا اور ہے شاعر کی دنیا اور ہے

شعر کی تحلیل سے پہلے مری تقریر سنخود زبان شعر سے آ شعر کی تفسیر سن

دل میں جب اشعار کی ہوتی ہے بارش بے شمارنطق پر بوندیں ٹپک پڑتی ہیں کچھ بے اختیار

ڈھال لیتی ہے جنہیں شاعر کی ترکیب ادبڈھل کے گو وہ گوہر غلطاں کا پاتی ہیں لقب

اور ہوتی ہیں تجلی بخش تاج زر فشاںپھر بھی وہ شاعر کی نظروں میں ہیں خالی سیپیاں

جن کے اسرار درخشاں روح کی محفل میں ہیںسیپیاں ہیں نطق کی موجوں پہ موتی دل میں ہیں

شاعری کا خانماں ہے نطق کا لوٹا ہوااس کا شیشہ ہے زباں کی ٹھیس سے ٹوٹا ہوا

چھائے رہتے ہیں جو شاعر کے دل سرشار پرٹوٹ کر آتے ہیں وہ نغمے لب گفتار پر

جاگتے رہتے ہیں دل کی محفل خاموش میںبند کر لیتے ہیں آنکھیں نطق کے آغوش میں

لوگ جن کی جاں گدازی سے ہیں دل پکڑے ہوئےکھوکھلے نغمے ہیں وہ اوزان میں جکڑے ہوئے

شعر ہو جاتا ہے صرف اک جنبش لب سے نڈھالسانس کی گرمی سے پڑ جاتا ہے اس شیشے میں بال

جام میں آتے ہی اڑ جاتی ہے شاعر کی شرابٹوٹ جاتا ہے کنارے آتے آتے یہ حباب

اس سے بڑھ کر اور ہو سکتی ہے کیا حیرت کی باتشعر کو سمجھا اگر شاعر کی تو نے کائنات

شعر کیا جذب دروں کا ایک نقش ناتماممشتبہ سا اک اشارہ ایک مبہم سا کلام

کیف میں اک ''لغزش پا'' کلک گوہر بار کی''اضطراری ایک جنبش سی'' لب گفتار کی

''ایک صوت خستہ و موہوم ساز ذوق کی''''مرتعش سی ایک آواز'' انتہائے شوق کی

بے حقیقت نے کے اندر زمزمہ داؤد کاعارض محدود پر اک عکس لا محدود کا

'شعر' کیا عقل و جنوں کی مشترک بزم جمال'شعر' کیا ہے عشق و حکمت کا مقام اتصال

ظلمت ابہام میں پرچھائیں تفصیلات کیپیچ و خم کھاتے بگولے میں چمک ذرات کی

جوئے قدرت کی روانی دشت مصنوعات میںٹوٹنا رنگیں ستارے کا اندھیری رات میں

شعر کیا ہے نیم بیداری میں بہنا موج کابرگ گل پر نیند میں شبنم کے گرنے کی صدا

تر زبانی اور خاموشی کی مبہم گفتگولفظ و معنی میں توازن کی نہفتہ آرزو

بادلوں سے ماہ نو کی اک اچٹتی سی ضیاجھانکنا قطرے کے روزن سے عروس بحر کا

مر کے بھی تو شاعری کا بھید پا سکتا نہیںعقل میں یہ مسئلہ نازک ہے آ سکتا نہیں

تو سمجھتا تھا جو کہنا چاہیئے تھا کہہ گیاپوچھ شاعر سے کہ وہ کیا کہہ سکا کیا رہ گیا

کون سمجھے شعر یہ کیسے ہیں اور کیسے نہیںدل سمجھتا ہے کہ جیسے دل میں تھے ویسے نہیں

— جوش ملیح آبادی