غزل 7 اشعار

بے ہوشیوں نے اور خبردار کر دیا

Behoshiyon ne aur khabardar kar diya

بے ہوشیوں نے اور خبردار کر دیاسوئی جو عقل روح نے بیدار کر دیا

اللہ رے حسن دوست کی آئینہ داریاںاہل نظر کو نقش بہ دیوار کر دیا

یا رب یہ بھید کیا ہے کہ راحت کی فکر نےانساں کو اور غم میں گرفتار کر دیا

دل کچھ پنپ چلا تھا تغافل کی رسم سےپھر تیرے التفات نے بیمار کر دیا

کل ان کے آگے شرح تمنا کی آرزواتنی بڑھی کہ نطق کو بیکار کر دیا

مجھ کو وہ بخشتے تھے دو عالم کی نعمتیںمیرے غرور عشق نے انکار کر دیا

یہ دیکھ کر کہ ان کو ہے رنگینیوں کا شوقآنکھوں کو ہم نے دیدۂ خوں بار کر دیا

— جوش ملیح آبادی