غزل 5 اشعار

وہ صبر دے کہ نہ دے جس نے بیقرار کیا

Woh sabr de ke na de jis ne beqarar kiya

وہ صبر دے کہ نہ دے جس نے بیقرار کیابس اب تمہیں پہ چلو ہم نے انحصار کیا

تمہارا ذکر نہیں ہے تمہارا نام نہیںکیا نصیب کا شکوہ ہزار بار کیا

ثبوت ہے یہ محبت کی سادہ لوحی کاجب اس نے وعدہ کیا ہم نے اعتبار کیا

مآل ہم نے جو دیکھا سکون و جنبش کاتو کچھ سمجھ کے تڑپنا ہی اختیار کیا

مرے خدا نے مرے سب گناہ بخش دیےکسی کا رات کو یوں میں نے انتظار کیا

— جوش ملیح آبادی