غزل 6 اشعار

تبسم ہے وہ ہونٹوں پر جو دل کا کام کر جائے

Tabassum hai woh honton par jo dil ka kaam kar jaye

تبسم ہے وہ ہونٹوں پر جو دل کا کام کر جائےانہیں اس کی نہیں پروا کوئی مرتا ہے مر جائے

دعا ہے میری اے دل تجھ سے دنیا کوچ کر جائےاور ایسی کچھ بنے تجھ پر کہ ارمانوں سے ڈر جائے

جو موقع مل گیا تو خضر سے یہ بات پوچھیں گےجسے ہو جستجو اپنی وہ بیچارہ کدھر جائے

سحر کو سینۂ عالم میں پرتو ڈالنے والےتصدق اپنے جلوے کا مرا باطن سنور جائے

پریشاں بال کرتے ہیں انہیں شوخی سے مطلب ہےبکھرتا ہے اگر شیرازۂ عالم بکھر جائے

حیات دائمی کی لہر ہے اس زندگانی میںاگر مرنے سے پہلے بن پڑے تو جوشؔ مر جائے

— جوش ملیح آبادی