غزل 8 اشعار

دل آزادہ رو میں وہ تمنا تھی بیاباں کی

Dil-e-aazaada-rau mein woh tamanna thi biyaabaan ki

دل آزادہ رو میں وہ تمنا تھی بیاباں کیقدم رکھتے ہی شق ہونے لگی دیوار زنداں کی

خدا کی رحمتیں اے مطرب رنگیں نوا تجھ پرکہ ہر کانٹے میں تو نے روح دوڑا دی گلستاں کی

یہ ثابت کر دیا تجھ کو بنا کر دست قدرت نےکہ ہو سکتی ہیں اتنی خوبیاں صورت میں انساں کی

نسیم صبح ٹھنڈی سانس بھرتی ہے مزاروں پراداسی منہ اندھیرے دیکھیے گور غریباں کی

یہ عالم کیا ہے اک مجموعہ ہے ناچیز ذروں کایہ دنیا کیا ہے اک ترکیب اجزائے پریشاں کی

ہواؤں کے وہ جھونکے وہ کھلے میدان کی سردیوہ لہریں چاند سے رخسار پر زلف پریشاں کی

ہماری زندگی کیا سلسلہ اک دل دھڑکنے کاہماری موت کیا جنبش ہے اک جذبات پنہاں کی

بنا دیں گی یقیں ہے جوشؔ مرد باخدا اک دنتپش اندوزیاں سینے میں برق سوز پنہاں کی

— جوش ملیح آبادی