غزل 8 اشعار

دور اندیش مریضوں کی یہ عادت دیکھی

Door andesh mareezon ki yeh aadat dekhi

دور اندیش مریضوں کی یہ عادت دیکھیہر طرف دیکھ لیا جب تری صورت دیکھی

آئے اور اک نگۂ خاص سے پھر دیکھ گئےجبکہ آتے ہوئے بیمار میں طاقت دیکھی

قوتیں ضبط کی ہر چند سنبھالے تھیں مجھےپھر بھی ڈرتے ہوئے میں نے تری صورت دیکھی

محفل حشر میں یہ کون ہے میر مجلسیہ تو ہم نے کوئی دیکھی ہوئی صورت دیکھی

سب یہ کہتے ہیں اسے اب کوئی آزار نہیںکیوں ستم گار مرے ضبط کی قوت دیکھی

سونے والوں پہ نہ چمکا کبھی نور سحریرونے والوں ہی کے چہروں پہ صباحت دیکھی

اس قدر یاس بھی ہوتی ہے کہیں دنیا میںرو دیے ہم جو تری چشم عنایت دیکھی

مجھ کو تعلیم سے فرصت ہی کہاں اے شبیرؔکہہ لیا شعر کوئی جب کبھی فرصت دیکھی

— جوش ملیح آبادی