غزل 5 اشعار

ظالم یہ خموشی بے جا ہے اقرار نہیں انکار تو ہو

Zalim Yeh Khamoshi Beja Hai Iqrar Nahin Inkar To Ho

ظالم یہ خموشی بے جا ہے اقرار نہیں انکار تو ہواک آہ تو نکلے توڑ کے دل نغمے نہ سہی جھنکار تو ہو

ہر سانس میں صدہا نغمے ہیں ہر ذرے میں لاکھوں جلوے ہیںجاں محو رموز ساز تو ہو دل جلوہ گہہ انوار تو ہو

شاخوں کی لچک ہر فصل میں ہے ساقی کی جھلک ہر رنگ میں ہےساغر کی کھنک ہر ظرف میں ہے مخمور تو ہو سرشار تو ہو

کیونکر نہ شب مہ روشن ہو کیوں صبح نہ دامن چاک کرےکچھ وصف رموز حسن تو ہو کچھ شرح جمال یار تو ہو

سینے میں خطائیں مضطر ہیں انعام کا وہ اقرار کریںمنصور ہزاروں اب بھی ہیں اے جوشؔ صلے میں دار تو ہو

— جوش ملیح آبادی